جنوبی افریقہ: فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ تحریک

تحریر: عمر شاہد |

گزشتہ سال سے جاری جنوبی افریقہ میں فیسوں میں اضافہ کے خلاف تحریک #FeesMustFall اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اکتوبر 2015ء میں وٹ واٹرز رینڈ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ یونیورسٹی کی فیسوں میں 10 فیصد کے حساب سے اضافہ کیا جائے گا لیکن حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق اس سال افراط زر کی شرح چھ فیصد تھی۔ اس اعلان کے بعد 14 اکتوبر کو یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کا آغاز کر دیا تھا۔ احتجاج سے شروع ہونے والی اس طلبہ تحریک کی حمایت میں یونیورسٹی سٹاف نے بھی ہڑتال کا اعلان کر دیا اور 17 اکتوبر کو طلبہ اور سٹاف نے مل کر یونیورسٹی کا نظام معطل کر تے ہوئے لامتناہی دھرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا جس سے خوف زدہ ہو کر فوری طور پر یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے طلبہ سے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔

مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا کہ کیپ ٹاؤن یونیورسٹی اور رھوڈز یونیوسٹی کی انتظامیہ نے بھی فیسوں میں اضافے کا اعلان کیا۔ اس فیصلے نے ایک چنگاری کا کام کیا جس کے نتیجے میں پورے ملک میں طلبہ تحریک کی نئی اٹھان دیکھی گئی تھی۔ اس دوران طلبہ نے نیشنل اسمبلی تک کا گھیراؤ کیا۔ اس تحریک کے دوران کئی کیمپسوں پر طلبہ نے قبضے کئے اور نظام زندگی مفلوج کر دیا۔ اس تحریک کی گونج پورے جنوبی افریقہ میں سنائی دی جہاں پر برسوں سے مقید غم و غصہ پھٹ کر سامنے آیا۔ تحریک کو کچلنے کے لئے حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کئے گئے جس سے کئی ایک مقامات پر پولیس اور طلبہ کی جھڑپیں ہوئیں لیکن اس ریاستی جبر نے تحریک کو ختم کرنے کی بجائے مزید شدت سے بھڑکایا۔ اس طلبہ تحریک کی لہرفوری طور پر دیگر یونیورسٹیوں مثلاً کیپ ٹاؤن یونیورسٹی اور رھوڈز یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی ادارو ں تک پھیل گئی۔ اس سال یہی تحریک دوبارہ ابھر کر خود کو بلند پیمانے پر دہرا رہی ہے۔

موجودہ تحریک نے برسوں سے پائی جانے والی ناہمواری ،اضطراب اور انتشار کو عیاں کیا ہے۔ نوجوانوں کے اضطراب میں شدت کی بنیادی وجوہات میں نسلی اور طبقاتی تفریق ، بڑھتی ہوئی بیروزگاری ، شدید طبقاتی استحصال اور بیگانگی شامل ہیں۔ 2015ء میں تحریک کی اٹھان دیکھتے ہوئے صدر جیکب ذوما نے فوری طور پر فیس میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن ایک سال بعد اکتوبر 2016ء میں ایک بار پھر حکومت کی طرف سے یونیورسٹی کی فیسوں میں 8 فیصد اضافے کے اعلان نے ایک بار پھر اس تحریک میں نئی جان ڈال دی ہے۔ .
1994ء میں نسل پرست نظام حکومت (اپارٹائڈ) کے خاتمہ کے بعد سے جنوبی افریقہ میں طبقاتی فرق زیادہ شدید ہوا ہے اور اس دوران امیر اور غریب کے مابین خلیج میں اضافہ ہو اہے۔ عالمی بنک کی رپورٹس کے مطابق 60 فیصد آبادی سالانہ 7000 ڈالر ز سے کم کماتی ہے جبکہ 2.2 فیصد افراد کی اوسط سالانہ کمائی 50,000 ڈالرز سے بھی زیادہ ہے۔ افریقن نیشنل کانگریس کی بظاہر سیاہ فام دوست پالیسیوں کے باوجود ملک کی غریب آبادی کا 90 فیصد سیاہ فاموں پر مشتمل ہے۔ 2008ء میں کئے گئے قومی آمدنی کے سروے کے مطابق 1993ء کی نسبت سیاہ فام آبادی کی غربت اور ناہمواری میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر 1993ء میں امیر ترین 5 فیصد ملکی دولت کے38 فیصد پر قابض تھے جبکہ اب یہ 43فیصد سے بھی زائد ہے۔ بیروزگاری میں بھی شدت سے اضافہ ہوا ہے۔ 2016ء میں سرکاری طور پر بیروزگاری کی شرح 36 فیصد ہے۔ یہ شرح درحقیقت اس سے کہیں زیادہ ہے اور نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 51 فیصد سے زیادہ ہے۔ بیروزگاروں میں بھی اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔

 منڈیلا کے بعد کی ’تھیمبو مبیکی‘ حکومت نے بڑے پیمانے پر نجکاری، آزاد تجارت (لبرلائزیشن) اور عالمی بینک کے ایما پر ریسٹرکچرنگ کے پروگرام کو تیزی سے نافذ کرانا شروع کیا جس کے نتیجے میں امارت اور غربت کے مابین فرق میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران میں جنوبی افریقہ کی معیشت بھی زیادہ متاثر ہوئی جس نے ملک میں نام نہاد ترقی کا راز افشاں کیا۔ بیروزگاری بڑھنے کی ایک اہم وجہ پیداواری صنعت کی گراوٹ تھی جس کی وجہ سے کثیر تعداد میں محنت کشو ں کو ملازمت سے نکالا گیا۔ ا س صورتحال کے شدید برے اثرات نوجوان نسل پڑے۔

نسل پرست حکومت کے اختتام اور سویت یونین کے انہدام کے بعد ایک نئی نسل پروان چڑ ھ چکی ہے جن کے شعور پر ماضی کی قیادتوں کی غداریوں کا بوجھ نہیں ہے۔ اس نوجوان نسل کے پاس مستقبل کے لئے کوئی راستہ اس نظام میں نہیں ہے۔ اسی اذیت کی کیفیت میں اس تحریک میں نوجوانوں نے بہادری اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور وہ ہر محاذ پر ریاست کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ نسل پرست حکومت میں سیاہ فاموں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع ناپید تھے۔ اس دوران ان کو یونیورسٹیوں میں داخلے کی اجازت تک نہ تھی۔ اس حکومت کے خاتمے کے بعد بظاہر سیاہ فاموں کو یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی اجازت دی گئی لیکن بلند تعلیمی اخراجات کے باعث ان کے لئے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے اپنے اعدادو شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں داخلوں کے تناسب میں سیاہ فاموں کی شرح صرف 14 فیصد ہے۔ فی الوقت بھی اگر 2015ء کے مطابق ہی فیسیں رکھی جائیں تو بھی آبادی کی اکثریت کے لئے تعلیم حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس وجہ سے محنت کشوں کے بچے جو کسی طرح سے ان تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر پارٹ ٹائم نوکریاں کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ ایسے میں فیسوں میں ایک فیصد کا اضافہ بھی ان کے لئے عذاب ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف حکومت نے معاشی بحران سے نکلنے کے لئے کٹوتیوں کی پالیسیو ں کے باعث رواں سال اعلان کیا کہ یونیورسٹیاں اپنے بجٹ میں خود کفیل ہوں جس کی وجہ سے کئی مستقل ملازمتوں کو ختم کیا گیا اور یونیورسٹی میں ’غیر ضروری سٹاف‘ کو عارضی یا ڈیلی الاؤنس کی بنیاد پر نوکریوں پر رکھنے کی پالیسی شروع کی گئی اور ساتھ فیسوں میں اضافے کا اختیار بھی ان کو دے دیا گیا۔ اس کے خلاف ایک بار پھر سے طلبہ تحریک سرگرم عمل ہے۔ طلبہ کی طرف سے پیش کئے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال تقریباً 60 بلین رینڈ (جنوبی افریقہ کی کرنسی) کرپشن اور حکمرانوں کی عیاشیوں میں خرچ ہوتے ہیں جبکہ محض 45 بلین رینڈ سے تمام افراد کو مفت تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ میں حال ہی ہونے والے سیاہ فام محنت کشوں کے شاندار مظاہروں اور تحریکوں نے ثابت کیا کہ محنت کش ایک بار تاریخ کے میدان میں نکلنے کو تیا رہیں۔ اسی طر ح موجودہ طلبہ تحریک ملک میں ایک فوکل پوائنٹ بن چکی ہے جس کی وجہ سے محنت کشوں کی صفوں میں بھی ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ تحریک کو ’نمسا‘ (دھات کے محنت کشوں کی یونین) کی حمایت بھی حاصل ہو چکی ہے جن کے نمائندے کئی ایک جگہوں پر طلبہ کے احتجاجوں میں شامل ہوئے۔ ملک کی تاریخ میں کئی مواقع پر نوجوانوں نے تحریکوں کی قیادت کی ہے جس میں مارچ 1960ء کو شارپویل کے قتل عام کے بعد ابھرنے والی تحریک اور جون 1976ء میںSOWETO کی تحریک شامل ہے۔ حالیہ طلبہ تحریک نے حکمران طبقے میں بھی ہلچل پیدا کر دی ہے اور افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کے اندر بھی اس پر واضح پھوٹ نظر آرہی ہے۔ صدر ذوما کی جانب سے 2016ء میں فیسوں میں اضافہ نہ کرنے کے اعلان کے باوجود اب اس تحریک کے مطالبات واضح طور پر مفت تعلیم کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ تحریک مزید بڑھے گی اور قوی امکانات ہیں کہ مزدور تحریک میں بھی ہلچل پیدا کرنے کی طرف جائے گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s